Tahajjud Ki Namaz Kay Fazail

Tahajjud Ki Namaz Kay Fazail

تہجد بہت ہی افضل و اعلیٰ نماز ہے۔ نمازپنجگانہ کے بعد یہ نماز بہت اعلیٰ ہے،یہ ایک حقیقت ہے کہ رات کو آرام کی نیند چھوڑ کر بستروں سے الگ ہونا انسانی طبیعت پر کافی گراں گزرتا ہے؛ اس لیے اللہ پاک نے فرض نماز کے بعد رات کی پچھلی گھڑی میں عبادت کرنے کو افضل قرار دیا۔آئیے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی فضیلت کو جانتے ہیں۔

تہجد کی فضیلت میں قرآنی آیات

تہجد صلوۃاللیل کی ایک قسم ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کےلیےسونا شرط ہےچنانچہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کے اوصاف میں ارشاد فرمایا: وَالَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیٰمًا ﴿۶۴﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو رات کا ٹتے ہیں اپنے رب کے لئے سجدے اور قیام میں۔ ایک مقام پر یوں ارشاد فرمایا: تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ترجمۂ کنز الایمان: ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے اوراپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اورامید کرتے۔

کن لوگوں سے خدا خوش ہوتا ہے

حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورسرورِ کونین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:ہمارا رب دو شخصوں سے بہت خوش ہوتا ہے، ایک وہ شخص جو اپنے بستر، اپنے لحاف، اپنے پیاروں، اپنے گھر والوں کے درمیان سے کود کر نماز کے لئے کھڑا ہو، رب تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:اے میرے فرشتو! میرے اس بندے کو دیکھو کہ اپنے بستر اور لحاف سے اپنے پیاروں اور گھر والوں کے درمیان سے نماز کے لئے اٹھ کھڑا ہوا، میرے ثواب کی رغبت کرتے اور میرے عذاب کا خوف کرتے اور ایک وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگ جائے پھر غور کرے کہ اس پر بھاگنے میں کیا عذاب ہے اور لوٹنے میں کیا ثواب ہے تو لوٹ پڑے حتی کہ اس کا خون بہادیا جائے تو رب تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے بندے کو دیکھو میرے ثواب میں رغبت اور میرے عذاب سے خوف کرتے ہوا لوٹ پڑا حتّٰی کہ اس کا خون بہاد یا گیا۔

2 Replies to “Tahajjud Ki Namaz Kay Fazail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *