Youm E Ashura Ki Roza Ki Fazeelat (یومِ عاشوراء)

Youm-E-Ashura-Ki-Roza-Ki-Fazeelat

بسم الله الرحمن الرحیم

محرم الحرام ہجری تقویم کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد نبی صلی الله علیه وسلم کے واقعہ ہجرت پر ہے۔ گویا مسلمانوں کے نئے سال کی ابتدا محرم کے ساتھ ہوتی ہے۔

 یومِ عاشوراء کے روزے کی فضیلت:

1. حضرت ابو قتادہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «وصيام يوم عاشوراء أحتسب علی الله أن يکفر السنة التي قبله» ” مجھے اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ یوم عاشورا کا روزہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔” (مسلم : کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام؛ ۱۱۶۲).

واضح رہے کہ “عاشوراء” عشر سے ہے جس کا معنی ہے دس ۱۰ ؛ اور محرم کی دسویں تاریخ کو عاشوراء کہا جاتا ہے۔

2. حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ”قریش کے لوگ دورِ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے اور نبی اکرم ﷺ بھی یہ روزہ رکھتے تھے۔ پھر جب آپؐ مدینہ تشریف لے آئے تو تب بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے اور صحابہ کرام کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا آپؐ نے حکم دے رکھا تھا۔ البتہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کی فرضیت ختم ہوگئی۔ لہٰذا اب جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔” (بخاری: کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشورا ؛۲۰۰۳/ مسلم: کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء ؛۱۱۲۵)

3. حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ دورِ جاہلیت میں لوگ یومِ عاشورا کا روزہ رکھا کرتے تھے اور اللہ کے رسولؐ اور مسلمان بھی اس دن روزہ رکھتے۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«إن عاشوراء يوم من أيام الله فمن شاء صامه ومن شاء ترکه»

”عاشورا اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سے ایک (معزز) دن ہے لہٰذا جو اس دن روزہ رکھنا چاہے، وہ روزہ رکھے اور جونہ رکھنا چاہے وہ نہ رکھے۔” (مسلم:ایضاً؛ ۱۱۲۶)

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دورِ جاہلیت میں قریش دسویں محرم کا روزہ کیوں رکھتے تھے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ہر سال ماہِ محرم کی اس تاریخ کو بیت اللہ کو غلاف پہنایا کرتے تھے جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ ہی سے مروی ایک حدیث میںہے (بخاری؛۱۵۸۲) لیکن اس پر پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قریش غلافِ کعبہ کے لئے یہی دن کیوں خاص کرتے تھے؟ تو اس کا جواب (اور پہلے سوال ہی کا دوسرا جواب) یہ ہوسکتا ہے جو حضرت عکرمہؓ سے مروی ہے کہ

”دورِ جاہلیت میں قریش نے ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کیا جو ان پر بڑا گراں گزرا تو ان سے کہا گیا کہ تم لوگ عاشورا کا روزہ رکھو یہ تمہارے گناہ کا کفارہ ہوجائے گا۔ پھر اس وقت سے قریش عاشوراء کا روزہ رکھنے لگے۔” (فتح الباری: ۴؍۷۷۳، کتاب الصوم، باب صوم یوم عاشورائ).

4. حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ”جب اللہ کے رسولؐ مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپؐ نے ان سے پوچھا کہ اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا (افضل) دن ہے اور یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات بخشی (اور فرعون کو اس کے لشکر سمیت بحیره قلزم میں غرقاب کیا) تو حضرت موسیٰ ؑ نے (بطورِ شکرانہ) اس دن روزہ رکھا (اور ہم بھی روزہ رکھتے ہیں) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہم حضرت موسیٰ ؑ کے (شریک ِمسرت ہونے میں) تم سے زیادہ مستحق ہیں۔ چنانچہ آپؐ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔” (بخاری: ایضاً ؛ ۲۰۰۴/مسلم؛۱۱۳۰)

5. حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ”میں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے رسولؐ دنوں میں سے دسویں محرم (یوم عاشوراء) کے اور مہینوں میں سے ماہِ رمضان کے روزوں کے سوا کسی اور روزے کو افضل سمجھ کر اس کا اہتمام کرتے ہوں۔” (بخاری، ایضاً؛۲۰۰۶/ مسلم ایضاً؛۱۱۳۲)

6. حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ”عاشوراء کے روز یہودی عید مناتے مگر آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم اس دن روزہ رکھا کرو۔” (بخاری ؛۲۰۰۵/ مسلم ؛۱۱۳۱)

7. ابوموسیٰ ؓ سے مروی مسلم ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ ”اہل خیبر عاشوراء کے روز، روزہ رکھتے اور ا س دن عید مناتے اور اپنی عورتوں کو اچھے اچھے لباس اور زیورات پہناتے مگر اللہ کے رسولؐ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ تم اس دن روزہ رکھو۔”(مسلم؛۲۶۶۱)

8. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قبیلہ بنواسلم کے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں جاکر یہ اعلان کرے کہ

”جس نے کچھ پی لیا ہے، وہ اب باقی دن کھانے پینے سے رکا رہے اور جس نے کچھ نہیں کھایا، وہ روزہ رکھے کیونکہ آج عاشوراء کا دن ہے۔” (بخاری؛۲۰۰۷/ مسلم؛۱۱۳۵)

9. حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے جب دسویں محرم کا روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا کہ

”اے اللہ کے رسولؐ! اس دن کو یہود و نصاریٰ بڑی تعظیم و اہمیت دیتے ہیں۔ (یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ آپؐ تو ہمیں یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیتے ہیں اور یوم عاشوراء کے معاملہ میں تو ان کی موافقت ہورہی ہے۔) تو آپؐ نے فرمایا کہ «فإذا کان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع» آئندہ سال اگر اللہ نے چاہا تو ہم نویں تاریخ کو روزہ رکھیں گے۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اگلا سال آنے سے پہلے اللہ کے رسولؐ انتقال فرما گئے۔” (مسلم؛۱۱۳۴)

10. مسلم کی ایک روایت کے لفظ یہ ہیں کہ «لإن بقيت إلی قابل لأصومن التاسع»

”اگر آئندہ سال میں زندہ رہا تو ضرور نو کا روزہ رکھوں گا۔” (مسلم: ایضاً).

جمهور علماء کے مطابق اصل فضیلت والا دن دس محرم ہے. لیکن اس کے ساته 9 یا 11 ملانا مستحب هے. تاکه یهود سے مشابهت نه هو.

عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ایک روایت سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے فرمایا: «صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود» (السنن الکبری للبیہقی : ص۲۷۸؍ ج۴)

”نو اور دس (دونوں کا) روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ ”

شیخ احمد عبدالرحمن البنائؒ نے اس موقوف روایت کی سند کو صحیح قرار دیاہے۔

(الفتح الربانی :۱؍۱۸۹، مصنف عبدالرزاق؛۷۸۳۹، طحاوی:۲؍۷۸)

اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے یه حدیث مروی هے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «لإن بقيت لآمرن بصيام يوم قبله أو يوم بعد يوم عاشوراء»

” اگر آئندہ سال میں زندہ رہا تو میں یہ حکم ضرور دوں گا کہ دسویں محرم سے پہلے یا اس کے بعد (یعنی گیارہویں محرم) کا ایک روزہ (مزید) رکھو۔”

دیکهۓ مسندحمیدی (۴۸۵) اور سنن کبریٰ از بیہقی (۴؍۲۸۷) امام ابن عدی کی کتاب ‘الکامل’ (۳؍۹۵۶).

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

«”صوموا يوم عاشوراء وخالفوا فيه اليهود وصوموا قبله يوما أو بعده يوما»”یومِ عاشورا کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ (اس مخالفت کا طریقہ یہ ہے کہ) یوم عاشورا (دس محرم) کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا بھی روزہ رکھو۔”

دیکهۓ مسنداحمد (۱؍۲۴۱)، ابن خزیمہ (۲۰۹۵) ، الکامل (۳؍۹۵۶)، السنن الکبریٰ للبیہقی (۴؍۲۸۷).

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *