Surah Al-Ma’ida

5

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ 

Surah Al-Ma’ida

تعارف
یہ سورت حضور نبی کریم )صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم( کی حیات طیبہ کے بالکل آخری دور میں نازل ہوئی ہے۔ علامہ ابو حیان فرماتے ہیں کہ اس کے کچھ حصے صلح حدیبیہ، کچھ فتح مکہ اور کچھ حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئے تھے۔ اس زمانے میں اسلام کی دعوت جزیرہ عرب کے طول و عرض میں اچھی طرح پھیل چکی تھی، دشمنان اسلام بڑی حد تک شکست کھاچکے تھے، اور مدینہ منورہ میں آنحضرت )صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم( کی قائم کی ہوئی اسلامی ریاست مستحکم ہوچکی تھی۔ لہذا اس سورت میں مسلمانوں کے سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل سے متعلق بہت سی ہدایات دی گئی ہیں۔ سورت کا آغاز اس بنیادی حکم سے ہوا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے عہد و پیمان پورے کرنے چاہیں۔ اس بنیادی حکم میں اجمالی طور پر شریعت کے تمام احکام آگئے ہیں چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متعلق ہوں یا بندوں کے حقوق سے متعلق۔ اس ضمن میں یہ اصول بڑی تاکید کے ساتھ سمجھایا گیا ہے کہ دشمنوں کے ساتھ بھی ہر معاملہ انصاف کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ دشمنان اسلام کو اب اسلام کی پیش قدمی روکنے سے مایوسی ہوچکی ہے اور اللہ نے اپنا دین مکمل فرما دیا ہے۔ اسی سورت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس قسم کی غذائیں حلال ہیں اور کس قسم کی حرام؟ اسی سلسلے میں شکار کے احکام بھی وضاحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اہل کتاب کے ذبیحے اور ان کی عورتوں سے نکاح کے احکام کا بیان آیا ہے، چوری اور ڈاکے کی شرعی سزائیں مقرر فرمائی گئی ہیں، کسی انسان کو ناحق قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے ؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت آدم ٓ)علیہ السلام( کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے، شراب اور جوے کو صریح الفاظ میں حرام قرار دیا گیا ہے، وضو اور تیمم کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے کس طرح اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو توڑا؟ اس کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔
مائدہ عربی میں دسترخوان کو کہتے ہیں۔ اس سورت کی آیت نمبر ١١٤ میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ )علیہ السلام( سے ان کے متبعین نے یہ دعا کرنے کی فرمائش کی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے آسمانی غذاؤں کے ساتھ ایک دسترخوان نازل فرمائے۔ اس واقعے کی مناسبت سے اس سورت کا نام مائدہ یعنی دسترخوان رکھا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *