The Protection of all Prophets Bodies In Their Graves

The-Protection-of-all-Prophets-Bodies

بسم الله الرحمن الرحیم


تمام انبیاء کے جسم کی حفاظت


حدیث #1:

أبو هريرة رضي الله عنه سے روایت هے که رسول الله صلي الله عليه وسلم نے فرمایا:
“كل ابن آدم يأكله التراب إلا عجب الذنب منه خلق وفيه يركب”.
حواله: البخاري والنسائي وأبو داود وابن ماجه وأحمد في المسند ومالك في الموطأ.
ترجمه: هر ابن آدم (کے بدن کی هر چیز کو) زمین بوسیده کرڈالے گی سواۓ پونچه کی هڈی کے, اسی سے انسان کو بنایا گیا اور اسی سے انسان کو دوباره اٹهایا جاۓ گا.

حدیث #2:

حضرت أوس رضي الله عنه سے روایت هے که نبي صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
“إن الله عز وجل قد حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء”.
بے شک الله نے زمین پر بند کیا هے که وه انبیاء کے جسموں کو کهاۓ.
حواله: النسائي (1374)، وأبوداود (1047)، وابن ماجة (1636).
تشریح: پهلی حدیث میں ہے کہ ھر بنی آدم کے جسم کو زمین کھاۓ گی (سواۓ پونچھ کی ھڈی کے)
اور دوسری حدیث میں انبیاء کی اجساد کی حفاظت کا بیان ہے.
حالانکہ انبیاء بھی بنی آدم ہے.
تعارض پیدا ہوا،
دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ قانون تو یہ ہے کہ ھر بنی آدم کے جسم کو زمین کھاۓ گی لیکن انبیاء اس قانون سے مستثنی ہے. (پهلی حدیث سے وهی مستثنی هوسکتے هیں جن کی اثتثناء دلیل سے ثابت هو, اور دلیل کی رو سے یه اثتثناء صرف انبیاء کو حاصل هے).
یاد رهے که بعض احادیث میں شهداء اور حفاظ قرآن کے اجسام کی حفاظت کا ذکر بهی آیا هے لیکن وه تمام احادیث شدید ضعیف هے, اور الله نے همیں اس بات کا مکلف نهیں بنایا که هم ضعیف احادیث سے دلیل پکڑے. نیز حفاظت اجسام انبیاء کرام علیهم السلام کا معجزه هے, اور نبی کا معجزه کسی ولی (صدیق, شهید, صالح) کی کرامت نهیں بن سکتی.

نکتہ:

ایک طرف ارشاد ہے کہ (سواۓ انبیاء کے) ھر انسان (کے بدن کی ھر چیز کو) زمین کھاۓ گی، دوسری طرف بعض علماء نے لکھا  ہے کہ شھداء کے اجسام بھی محفوظ ہے، نیز بعض شھداء اور صلحاء کی قبروں کو سینکڑوں سال بعد (کسی وجہ سے) کھول دیا گیا تو ان کے جسم بالکل صحیح سلامت تھے.
تو دفع اعتراض یہ ہے کہ یہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے کہ ان کی اجسام کتنا عرصہ محفوظ رکھے، خواہ ایک دن ہو یا 100 سال، 500 سال ھو یا 1000 سال، لیکن انبیاء کے سوا ھر بنی آدم کے جسم کو قیامت سے پہلے زمین ضرور کھاۓ گی، قانون یہی ہے. باقی جن علماء نے شھداء کی اجسام کی حفاظت کا قول کیا ہے وہ بے دلیل ہے. اور بے دلیل بات ماننے کے هم مکلف نهیں.
سوال: انبیاء کی اجسام کیوں محفوظ هے.
وجه یه هے که یه جسم چونکه نبی کی روح کا ٹهکانه ره چکا هوتا هے, تو نبی کی نبوت کی شان یه هے که ان کے جسم سے روح کے نکلنے کے بعد بهی زمین ان کے جسم کو نهیں چهیڑ سکتی.

شبهه:

بعض حضرات فرماتے هیں که چونکه انبیاء قبروں میں زنده هیں اس وجه سے ان کی اجسام محفوظ هے, لیکن یه بات خلاف تحقیق هے (قبر کی حیات پر انشاءالله ایک الگ مفصل پوسٹ شیئر کرونگا, یهاں اختصار هے) , اگر یهی وجه هے تو پهر باقی لوگوں کے اجسام کیوں زمین کهاتے هیں? برزخی اعتبار سے تو سب مردے قبر (برزخ) میں زنده هے, خواه نیک (رسول, نبی, صدیق, شهید, صالح) هو یا بد (فاسق, فاجر, منافق, کافر, مرتد). نیکوں کی ارواح جنت میں هوتی هے (النحل 32) اور بدکاروں کی جهنم میں (النحل 28,29).
اور دنیاوی اعتبار سے سب مردے هیں, تو پهر یه فرق کیوں? .
اصل وجه وهی هے جو اوپر بیان کی گئ هے.
یا حی یا قیوم, اهدنا الصراط المستقیم. صراط الذین انعمت علیهم, غیر المغضوب علیهم ولا الضالین. (آمین).

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *