Pride of Companions of Hazrat Muhammad SAW

pride-of-companions-of-Hazrat-muhammad-SAW

اثبات رسالت اور شان صحابه کرام


اعوذ بالله من الشیطن الرجیم. بسم الله الرحمن الرحیم.
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً.
(سورت الفتح آیت 29 پاره 26).

 آیت کریمه کا مقصد اور خلاصه: اثبات رسالت اور شان صحابه کرام.


(محمد رسول الله) کے ساته رسول الله صلی الله علیه وسلم کی رسالت کا اثبات هے, پهر اگلے جملے سے رسالت نبوی صلی الله علیه وسلم پر بطور دلیل شان صحابه پیش کیا گیا هے. اور صحابه کے مندرجه ذیل صفات بیان کۓ گۓ هیں:

 کافروں پر شدید سخت ہے

آپس میں رحمدل ہیں

اللہ کو رکوع کرنے والے ہیں

اللہ کو سربسجود ہیں

 اللہ کے فضل کی جستجو میں ہیں

 اللہ کی رضامندی کی جستجو میں ہیں

 سجدوں (قرآن وسنت کی تابعداری) کی نشانیاں ان کے چهروں سے ظاهر هے.

 تورات وانجیل میں بهی شان صحابه بیان هوا تها

 ان کی مثال کھیتی کی ہے، جیسے کھیتی کمزوری کی بعد قوت پاتی ہے ایسے ھی صحابہ ابتداء میں قلیل تھے، پھر زیادہ اور مضبوط ہوگۓ

ان کی شان کو بیان کرنے اور ان کو قوت دینے پر اللہ کافروں کو چڑاتا ہے, یعنی شان صحابه پر غصه هونے والا کافر هے. (فتوی از امام مالک بن انس رح, بحواله تفسیر ابن کثیر)

 آیت کے اخیر میں الله نے صحابه کرام کے ایمان کا ذکر فرمایا, مطلب یه که صحابه کرام مؤمن هے اور کا ایمان کامل هے.
 صحابه کرام کے اعمال نیک هے.

 ان کے ساته الله کی طرف سے بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ ہے.

* ترجمہ وتاویل:

“محمد رسول الله”:
محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) ﷲ کے رسول ہیں.
“والذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینهم”:
اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں (یعنی آپ کے تمام صحابه) وہ کافروں پر تو نهایت سخت (مگر) آپس میں رحم دل ہیں۔
(اس بات سے قطع نظر که تاریخ “تاریک” هے, مورخین میں جهوٹوں اور متعصب رافضیوں کی بهرمار هے, اور سنی مورخ بهی عموما جهوٹے اور رافضی راویوں هی سے ناقل هے, اس بنیادی پوائنٹ سے قطع نظر تاریخ کے ذریعے صحابه کرام کا آپس میں بغض ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنے والے حضرات همیں صرف یه بتاۓ که کیا تاریخ کو قرآنی آیات کے مقابل پیش کرنے والا شخص مسلمان کهلانے کے لائق هے? ….. یاد رهے صحابه کے مابین لڑی جانے والی جنگیں (مشاجرات صحابه) بهی اس وقت کے خوارج وشیعوں اور اسلام دشمنوں کے هاتهوں آپس میں غلط فهمیوں کے سبب سے هوئ, صحابه کرام تو قرآنی آیت کے عین مطابق سب کے سب آپس میں شیر وشکر تهے, هم کون هوتے هیں محمد رسول الله صلی الله علیه وسلم کے شاگردوں اور قرآن وسنت کے گواهوں پر جرح وطعن کرنے والے, ان کے مشاجرات پر همیں بات کرنے کا حق کس نے دیا هے که هم مرچ مصالحه لگاکر تاریخ کے چور دروازے سے ان پر سب وشتم کی بوچهاڑ کرے?. هم صحابه کا صرف ذکر خیر هی کرسکتے هیں اور بس).
“تراهم رکعا سجدا یبتغون فضلا من الله ورضوانا”:
(اے دیکهنے والے) تم جب (بهی) انهیں (ان صحابه کرام کو) دیکھو گے تو رکوع و سجود کرتے ہوئے اور ﷲ کے فضل اور اس کی رضا مندی کی تلاش کرتے ہوئے دیکھو گے
“سیماهم فی وجوههم من اثر السجود”:
(کثرت-) سجدوں (یعنی قرآن وسنت کی تابعداری) کی وجہ سے ان کے چهروں پر ان کی نشانیاں هے/ هوگی
(-سجدے کے اثر سے صحابہ و تابعین سے اس نشانی کی تفسیر میں مختلف اقوال ماثور ہیں۔

جن میں سے دو قوی هے.

اول: وہ نور کہ روز قیامت ان کے چہروں پر کثرت سجود (تابعداری) سے ہو گا یہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنه اور امام حسن بصری و عطیہ و خالد حنفی ومقاتل بن حیان سے ہے.
دوم:خشوع وخضوع و روشن نیک جس کے آثار صالحین کے چہروں پر دنیا ہی میں بے تصنع یعنی بغیر بناوٹ کے ظاہر ہوتے ہیں۔یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنه و امام مجاہد سے ہے-)
ذالک مثلهم فی التوره“: (صحابه کے بارے میں جو یه بیان هوا) ان کی یہ صفت تورات میں بیان ہوئی ہے.
ومثلهم فی الانجیل کزرع اخرج شطاه فازره فاستغلظ فاستوی علی سوقه یعجب الذراع” : اور ان کی صفت انجیل میں (یوں) ہے جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی اور اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی (اس وقت وہ) کسانوں کو خوش کرتی ہے۔
“لیغیظ بهم الکفار”:
(لیغیظ میں لام کا متعلق محذوف هے, الله نے صحابه کرام کی یه شان بیان فرمائ) تاکہ کافروں کو ان کی وجہ سے غصہ دلائے۔
“وعد الله الذین امنوا وعملوا الصالحات منهم مغفره واجرا عظیما” :
ان ایمان والوں اور شائسته اعمال والوں سے الله نے مغفرت (بخشش) اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔
( “من” تبعیضیہ نہیں، کہ یہ مغفرت و اجر عظیم کا وعدہ بعض صحابہ کے ساتھ ہے، تمام کے ساته نهیں, جیسا کہ شیعہ اور شیعہ نواز لوگ باور کراتے ھیں. بلکہ “من” بیانیہ ہے، اور اس سے مراد تمام صحابہ کرام ہے. یعنی مغفرت اور اجرعظیم کا وعده الهی تمام صحابه کرام کے ساته هے, دیکھۓ تفسیر بیضاوی جلد 2 صفحہ 406، ابوسعود جلد 8 صفحہ 115، ابن کثیر جلد 4 صفحہ 205، تفسیر ماجدی وغیرہ).


امام ابن کثیر رحمہ ﷲ لکهتے ہیں که:

“امام مالک رحمہ ﷲ نے اس آیت سے رافضیوں (جو آج کل شیعه کے نام سے مشهور هے) کے کفر پر استدلال کیا ہے، کہ جنہیں صحابہ کرام کی وجہ سے غیض و غضب کا سامنا ہے، کہا: “
اس لئے کہ صحابہ کرام انہیں غصہ دلاتے ہیں، اور جسے صحابہ کرام غصہ دلائیں وہ اس آیت کی بنا پر کافر ہے”. انکے اس استدلال پر کچھ علمائے کرام نے موافقت بھی کی ہے، جبکہ صحابہ کرام کے فضائل میں احادیث بہت زیادہ ہیں، اسی طرح ایسی احادیث بھی موجود ہیں کہ جن میں صحابہ کرام کا برے الفاظ سے تذکرہ کرنا منع کیا گیا ہے، اگرچہ ان کیلئے ﷲ کی تعریف ہی کافی ہیں، اور ﷲ تعالی ان پر راضی بھی ہے. (تفسیر ابن کثیر 7/362).


جبکه امام ابن جوزی زادالمسیر میں سورہ فتح کی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں

قوله تعالى: (والذين معه) يعني أصحابہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم,
ترجمه: والذین معه“وه لوگ جو محمد رسول الله صلی الله علیه وسلم کے ساته هے” سے مراد صحابه کرام هے.
پھر لکہتے ہیں
قوله تعالى: (ليغيظ بهم الكفار) أي: إنما كثرهم وقواهم ليغيظ بهم الكفار.
یعنی الله نے صحابه کرام کو قوت وکثرت دی, تاکه اس کے ذریعے کفار کو غصه دلاۓ.
پهر لکهتے هیں:
وقال مالك بن أنس: من أصبح وفي قلبه غيظ على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد أصابته هذه الآية.
یعنی امام مالک ابن انس رحمه الله فرماتے هیں که جس کسی کے دل میں صحابه کے لۓ بغض هو یه آیت اس کے لۓ هے.
وقال ابن إدريس:
يعني الرافضة، لأن الله تعالى يقول: ” ليغيظ بهم الكفار?
اور امام ابن ادریس فرماتے هیں که وہ کفار رافضی (شیعه) هے, جن کے لۓ اللہ تعالی نےفرمایا ليغيظ بهم الكفار. (تاکه غصه کرے صحابه کی شان وشوکت کے ساته کافروں کو).
الله همیں قرآن وسنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ.

وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمین.


افادات استاذ محترم امام انقلاب شیخ القرآن علامه خلیل الرحمن مدظله.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *