Ilm-e-Gheb Serf ALLAH ke leye

علم-غیب صرف-الله-ﷻ-کے-پاس-ھے

بسم الله الرحمن الرحیم

علم غیب

غیب کا علم صرف اور صرف الله ﷻ کے پاس ھے۔ اور اسے صرف الله ﷻ جانتا ھے۔ نہ پیغمبر، نہ فرشتے، نہ ولی یا پیر و فقیر۔

علم غیب صرف الله ﷻ کے پاس ھے

سورة انعام ایت 59 میں الله ﷻ کا فرمان ھے کہ غیب کی کنجیاں میرے ھی پاس ھیں۔
۞ وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
اور اسی ( الله ﷻ )کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) وو ہے۔
سورة النحل ایت 77 میں ارشاد باری تعالی ھے۔
وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اور آسمانوں اور زمین کا علم الله ہی کو ہے اور (الله کے نزدیک) قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ الله ہر چیز پر قادر ہے.

رسول اکرم ﷺ سے علم غیب کی نفی 

سورة اعراف ایت 188 میں رسول اکرم ﷺ کو الله ﷻ حکم دیتے ھیں کہ اپنی مبارک زبان سے خود ھی اعلان کیجئے کہ میں اپنے بارے میں بھی نفع لینے یا نقصان سے بچنے کا اختیار نہیں رکھتا اور اگر میں غیب جانتا تو اپنے لئے بہت سے فائدے جمع کرتا۔ یعنی اے پیغمبر ﷺ آپ غیب نہیں جانتے۔
قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
کہہ دو ( اے پيغمبرﷺ )کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله ﷻ چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔
سورہ انعام ایت 50 میں الله پاک نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے تین اعلان فرماتے ھیں۔
۱ – یہ کہ میرے پاس الله ﷻ کے خزانے نہیں۔ میں داتا گنج بخش نہیں ھوں تو میرے امتی کیسے داتا گنج بخش ھو سکتے ھیں؟
۲ – یہ کہ میرے پاس غیب کا علم نہیں ھے۔ اور
۳ ۔ میں فرشتہ بھی نہیں ھوں۔ یعنی نورانی نہیں ھوں۔
قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ 
کہہ دو ( اے پیغمبرﷺ )کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے۔
سورہ نمل ایت 65 میں نبی ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا ھے کہ زمین اسمان میں الله ﷻ کے سوا کوئی غیب کا علم نہیں جانتا۔ اور جن حضرات کو لوگوں نے حاجت روا بنا رکھا ھے ، وہ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ قبروں سے کب اٹھائے جائیں گے۔
قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
کہہ دو ( اے پیغمبرﷺ )کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں اللهﷻ کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے۔ اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے۔
سورہ توبہ ایت 101 میں الله پاک نبیﷺ کو مخاطب کرکے فرماتے ھیں کہ مدینہ کے اطراف میں اور مدینہ میں منافق ھیں۔ آپ ان کے بارے میں نہیں جانتے۔ جبکہ ھم جانتے ھیں۔ یعنی آپ کے پاس غیب کا علم نہیں ھے۔
وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ 
اور ( اے پیغمبرﷺ )تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف
لوٹائے جائیں گے۔

فرشتوں سے علم غیب کی نفی

اسی طرح سورہ بقرہ کی ایات 32 اور میں 33 فرشتوں سے علم غیب کی نفی کی گئی ھے۔
قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
انہوں(فرشتوں) نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے.
قَالَ يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ ۖ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ
(تب) اللهﷻ نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے(غیب کا علم میرے ھی پاس ھے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *