The Greatness of Surah Al-Fatiha by Hadith (سورہ الفاتحہ کی عظمت)

The-Greatness-of-Surah-Al-Fatiha-by-Hadith

سورہ الفاتحہ کی عظمت


الحمدلله وکفی وسلام علی عباده الذین اصطفی, اما بعد:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ  المُعَلَّى قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي، فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أُجِبْهُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي قَالَ: “أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ؟ ” ثُمَّ قَالَ: «أَلاَ أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي القُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ المَسْجِدِ» فَأَخَذَ بِيَدِي، فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ قُلْتَ: «لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ مِنَ القُرْآنِ» قَالَ: «الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ، هِيَ السَّبْعُ المَثَانِي، وَالقُرْآنُ العَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ».
انظر: صحیح البخاری, کتاب فضائل القرآن- 66 , باب فضل فاتحۃ الکتاب , حدیث رقم 5006.
امام بخاری (ابوعبداللہ، محمد بن اسماعیل بن ابراھیم بن مغیرہ بخاری, پیدائش: 194 ھجری، جاۓ پیدائش: بخارا، وفات: 256 ھجری، جاۓ وفات: خرتنگ، جو سمرقند سے دس میل کے فاصلہ پر واقع ہے) اپنی بے نظیر کتاب صحیح بخاری (الجامع المسند الصحیح المختصر من اموررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ وایامہ۔۔۔۔۔۔یعنی وه کتاب جو جامع ہے امور دین کو, سنداحضورپاک تک سے متصل ہے ،صحیح ہے،رسول اللہ کی تمام صحیح احادیث کا احاطہ نہیں کیاگیا بلکہ مختصر انتخاب ہے اوراس کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ کے حالات وکیفیات آپ کی سنتیں اورطریقے اورآپ کے دور کے حالات معلوم ہوسکتے ہیں) میں 5 واسطوں سے ابو سعید بن معلی رضی الله عنه سے روایت کرتے هیں:
 علی بن عبداللہ مدینی -1
2- یحییٰ بن سعید قطان
3- شعبہ بن حجاج
4- حبیب بن عبدالرحمٰن
5- حفص بن عاصم)
(ابو سعید بن معلی رض فرماتے هیں) :
کہ میں نماز میں مشغول تھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اس لئے میں کوئی جواب نہیں دے سکا، پھر میں نے (آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر) عرض کیا، یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آنحضر ت نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں فرمایا ہے کہ “اللہ کے رسول جب تمہیں پکاریں تو ان کی پکار پر فوراً اللہ کے رسول کے لئے لبیک کہا کرو۔“ پھر آپ نے فرمایا مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے بڑی سورت میں تمہیں کیوں نہ سکھا دوں۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور جب ہم مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے ابھی فرمایا تھا کہ مسجد کے باہر نکلنے سے پہلے آپ مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورت بتائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ سورت ”الحمدللہ رب العالمین“ (سورت الفاتحه) ہے یہی وہ سات آیات ہیں جو (ہر نماز میں) باربار پڑھی جاتی ہیں اور یہی وہ ”قرآن عظیم“ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔
واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *