Who is the Follower of Prophet (Urdu)

follower-of-Prophet(saw)

آل رسول کون ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ 

سُورہ حجرات ایت ۱۳ میں اللہ تبارک و تعالی تمام انسانوں کو مخاطب کرکے فرماتا ھے۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (١٣)

  1. لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے۔

قومیں اور قبیلے صرف شناخت کے لئے ھیں۔ نا کہ ان پر فخر کیا جائے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کو سید کہا جاتا ھے۔ ھم ان کی قدر کرتے ھیں لیکن ان کو اپنے حسب نسب پر فخر نھیں کرنا چاھئے۔ کیونکہ اسلام میں نسب پر فخر حرام ھے۔ اللہ کے نزدیک عزت والا وہ ھے جو متقی ھو۔ جو اللہ کے اور اللہ کے رسول کی مکمل پیروی کرتے ھوں۔ جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا گیا ھے وہ بجا لاتے ھیں اور جن سے منع فرمایا گیا ھے ان سے خود کو دور رکھتے ھیں۔ جن کا عقیدہ قران کریم کے مطابق اور عمل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ھو۔ اگر قران و سنت کے خلاف جا رھے ھوں تو وہ اللہ کے نزدیک عزت والا نھیں ھے۔

ھم آل رسول پر درود بھیجتے ھیں اس سے مراد حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد نھیں بلکی اُن کے تابعدار ھیں۔

سیدنا نوح علیہ السلام کا مشرک بیٹا کنعان جب ڈوبنے لگا تو شفقت پدری جوش میں آئی اور اُنھوں نے اللہ کی بارگاہ میں دست سوال دراز کیا کہ یا اللہ آپ نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تمھارے اھل کو بچاؤں گا۔ الھی یہ تو میرا بیٹا ھے۔ اس کو اللہ نے سورہ ھود میں یوں بیان فرمایا ھے۔

وَنَادَىٰ نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (٤٥)

  1. اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے

قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (٤٦)

  1. خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو

قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (٤٧)

  1. نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا

یہ تو نوح علیہ السلام کا اپنا بیٹا تھا لیکن اللہ نے کھا کہ یہ تمھارا اھل نھیں۔

جس طرح نبی علیہ السلام کی ازواج کو امھات المومنین کھا گیا ھے اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم امت کے روحانی باپ ھیں۔ تمام مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی بیٹے ھیں۔

اگر خود کو سید کھلانے والے حضرت کے بتائے ھوئے راستے پر چلتے ھیں تو آل رسول ھیں اور اگر نھیں تو ابوجھل کا خون بھی تو قریش کا تھا۔ رشتے میں ابوجھل بھی حضرت کا چچا تھا۔ تو قران و سنت پر نا چلنے والے آل ابوجھل تو ھو سکتے ھیں۔ آل رسول نھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *